0

بلٹ پروف کمرے اور پناہ گاہیں

یہ بات تو ثابت ہوچکی ہے کہ پندرہ کروڑ کی بلٹ پروف پناہ گاہیں بھی کسی کو بچا نہیں پائیں لیکن ایک اور قسم کی پناہ گاہیں ایسی ہیں جو انسان کو بچا لیتی ہیں، اگلے زمانے میں جب مسجدیں مٹی کی ہوتی تھیں اورجن میں سوکھی گھاس بچھی ہوتی تھی اور کونے میں ایک مدہم سا سرسوں کے تیل کا دیا ٹمٹما رہا ہوتا تھا وہی جن کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا ہے ۔

میں ناخوش وبیزار ہوں مرمر کی سلوں سے

میرے لیے مٹی کا گھر ایک اوربنا دو

تو مسجدیں بھی پناہ گاہیں ہوتی تھی سخت ترین دشمن بھی اگر مسجد میں پناہ لیتا تھا تو دشمن مسجد کے اندر ان کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے لیکن اب کی مساجد میں شروفساد برپا ہوجایاکرتے تھے اور لاتعداد لوگ مسجد ہی میں قتل ہوجاتے تھے ۔

پشتون معاشرے میں تو ’’پناہ‘‘ کی روایت اتنی سخت تھی کہ اگر بہت ہی طاقتور لوگوں کا دشمن کسی غریب اور کمزور کے ہاں پناہ لے لیتا تھا تو اس کااحترام کیا جاتا تھا ، کہاوت مشہورتھی کہ اگرکوئی پرندہ بھی کسی پیڑ کی پناہ لیتاہے تو پیڑ اس پر ننگ کرتاہے ، شکاری کی گولی کے آگے سینہ سپرہوجاتاہے اورپرندے کو بچالیتاتھا ۔

افغان مہاجروں کے دورمیں ہمارے علاقے میں اس ’’پناہ‘‘کے معاملے میں بہت بڑا جھگڑا ہوا تھا لیکن پھر ’’پناہ ‘‘ کے احترام میں خطرہ ٹل گیا۔ہوایوں کہ ایک مقامی شخص کے کھیتوں میں ایک جگہ خشک گھاس پر ایک تلیر کاگھونسلہ۔پشتو میں اس پرندے کو ’’تنزرے‘‘ کہتے ہیں جو بٹیر سے کچھ بڑا ہوتا ہے ، کچھ افغان لڑکوں نے اس کو دیکھا تو اس مادہ تلیرکو انڈوں سمیت لے گئے ،زمین کے مالک کو پتہ چلا تو اس نے ان ہی لڑکوں کے مویشی پکڑلیے اورکہا کہ پرندے کو انڈوں سمیت لاؤتب جانورملیں گے۔

بات بڑھ گئی دونوں طرف سے اسلحہ نکالاگیا، قریب تھا کہ بہت بڑا تصادم مہاجروں اور مقامی لوگوں کے درمیان ہوجاتا لیکن کیمپ کمانڈر کو بروقت پتہ چل گیا اوروہ اپنے مسلح آدمیوں کے ساتھ موقع پر پہنچ گیا بلکہ اس کاارادہ بھی اپنے مہاجروں کی طرف داری کاتھا، لیکن جب اسے صحیح صورت حال کاعلم ہوا تو فوراً اپنے مہاجروں کو حکم دیا کہ وہ پرندہ انڈوں سمیت لے آئے پھر اس نے بڑے احترام سے وہ پرندہ اورانڈے مقامی لوگوں کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ یہ پرندہ اس کھیت والے کی پناہ میں تھا اوران لڑکوں نے جرم کیاہے جو اسے اٹھالائے ہیں ۔

ایسے اور بھی کئی واقعات ہوئے ہیں لیکن نواب دیر کاواقعہ نہایت دلچسپ تھا۔ نواب دیر جو بعد میں ایوب کے ہاتھوں معزول اوراسیر ہوگیاتھا ۔

ایک عجیب شخصیت تھی، انتہائی سخت اورظالم آدمی تھا اس کے حکم سے کوئی نہ تو تعلیم حاصل کرسکتاتھا اورنہ کسی کودومنزلہ مکان بنانے کی اجازت تھی اوراس کے لیے اس کا اپنا ایک فلسفہ تھا۔ دومنزلہ مکان پر پابندی کے بارے میں اس کاکہنا تھا کہ اس سے کچھ لوگ اپنی برتری جتاکر دوسروں کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں اورتعلیم کے بارے میں اس کانظریہ تھا کہ انگریزی ایک زہرہے جو معاشرے میں جتنا جتنا سرایت کرتا جاتاہے اس کے اندر سے انسانیت کو نکال کر صرف پیسے کابندہ بناتا ہے۔دیر ان دنوں دوحصوں پر مشتمل تھا۔

اب بھی جغرافیائی طورپر دو الگ الگ اوردوسرے سے کٹے ہوئے حصوں میں تقسیم ہے لیکن اب درمیان میں سڑک بن گئی ہے۔

اس الگ حصے کو ان دنوں میدان یا جندول کہاکرتے تھے اوراس کاحاکم نواب شاہ جہاں کابڑا بیٹا شہاب الدین تھا جو بعد میں باپ کے ساتھ معزول ہوکر لاہورمیں نظر بند کیاگیا ۔ نواب جندول بھی طاقت کے نشے میں سرشار تھا اورباپ سے دو قدم آگے سخت تھا ۔ایک مرتبہ نواب جندول اپنے کچھ لوگوں سے ناراض ہوگیا لیکن وہ لوگ بروقت خطرے سے آگاہ ہوکر بھاگ گئے ۔تلاش کرنے پر اسے پتہ چلا کہ وہ ایک بزرگ ’’املوک نار‘‘ کے ہاں پناہ گزین ہوگئے۔

نواب نے املوک نار سے کہا کہ میرے آدمی تمہارے پاس ہیں انھیں میرے حوالے کردو لیکن بزرگ نے انکار کیا کر میرے پاس تمہارے آدمی نہیں ہیں۔اب نواب کے لیے ایک ہی راستہ بچا تھا کہ میاں املوک نارکے گھر پر حملہ کرکے آدمیوں کو برآمد کرے لیکن میاں املوک ناربہت محترم اورلوگوں میں مقبول آدمی تھے اس پر ہاتھ ڈالناایک بہت بڑا اقدام تھا چنانچہ اس نے اپنے باپ سے اجازت چاہی، نواب شاہ جہاں نے اس سے کہا میاں املوک نار کے ہاں وہ آدمی نہیں ہوں گے ، اس لیے اس نے انکارکیا ہے۔

بیٹے نے کہا مجھے اچھی طرح پتہ ہے میرے بندے اس کے ہاں پناہ گزین ہیں ، چھاپہ مارنے کی اجازت دے دیجیے ، نواب دیر مسلسل اسے ٹالتا رہا لیکن بیٹا مصر تھا کہ میں املوک نار کے گھر پر چھاپہ ماروں گا ، اس پر نواب نے انتہائی سنجیدہ ہوکرکہا ، مجھے معلوم ہے ان آدمیوں کو میاں املوک نار نے پناہ دے رکھی ہے لیکن بیٹا ہمیں ایسی پناہ گاہوں کا احترام کرناچاہیے کہ کل ہمیں بھی ایسی پناہ گاہوں کی ضرورت پڑسکتی ہے ۔


#بلٹ #پروف #کمرے #اور #پناہ #گاہیں