0

تھکاوٹ پیدا کرنے والی نئی بیماری کی دریافت

برگردہ غدود میں معمولی سی خرابی بھی انسان کی زندگی تلپٹ کر سکتی ہے ۔ فوٹو : فائل

برگردہ غدود میں معمولی سی خرابی بھی انسان کی زندگی تلپٹ کر سکتی ہے ۔ فوٹو : فائل

کیا آپ روزمرہ زندگی میں درج ذیل طبی مسائل سے دوچار ہیں:

٭…شدید ذہنی و جسمانی تناؤ ٭…گھبراہٹ طاری رہنا ٭…مسلسل تھکن رہنا ٭…نیند نہ آنا ٭…صبح اٹھنے کو جی نہ چاہنا ٭…نمک یا چینی کھانے کی خواہش ٭…جسم میں درد رہنا ٭… وزن کم ہو جانا ٭…لو بلڈ پریشر ٭…سر درد ٭…سر کے بال اڑ جانا ٭…جلد کا رنگ بدل جانا ٭…جسمانی مدافعتی نظام کمزور ہونے کے سبب جلدی کسی بیماری کا نشانہ بننا ٭… جنسی خواہش ختم ہونا ٭… دل میں درد رہنا۔

ماضی میں سمجھا جاتا تھا کہ کسی نہ کسی وٹامن یا معدنیات کی کمی سے انسان کے بدن میں درج بالا منفی علامات جنم لیتی ہیں۔ مثلاً غذا میں فولاد کی عدم موجودگی سے تھکاوٹ ہوتی ہے۔ وٹامن ڈی نہ ملے تب بھی انسان تناؤ اور تھکن محسوس کرتا ہے۔ زنک، میگنیشم، پوٹاشیم، کیلشیم اور فاسفورس کی مطلوبہ مقدار نہ ملنے سے بھی انسان مندرج بالا خرابیوں کا نشانہ بن سکتا ہے۔

برگردہ غدود تو خراب نہیں

یہ درست ہے کہ معدنیات اور وٹامن یہ علامات پیدا کر سکتے ہیں مگر جدید طبی سائنس نے انکشاف کیا ہے کہ ’’برگردہ غدود‘‘ glands) Adrenal ( کی خرابی سے بھی انسان درج بالا خرابیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ ماہرین طب نے ان علامات کو ایک نئی بیماری’’بر گردہ تھکاوٹ‘‘ (Adrenal fatigue) کا نام دیا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں بیشتر معالج اس بیماری ہی سے ناواقف ہیں، اس کا علاج کرنا تو دور کی بات ہے۔

لہٰذا وٹامن اور معدنیات کھانے سے قبل کسی مستند ڈاکٹر کو دکھا کر یہ چیک کر لیں کہ کہیں آپ کے برگردہ غدود تو خراب نہیں ہو گئے۔تب حقیقی علاج یہ ہو گا کہ ان غدود کی خرابیاں دور کر دی جائیں۔ یوں آپ پھر صحت مند ہو سکیں گے۔

برگردہ غدود ہمارے گردوں کے اوپر واقع دو چھوٹے سے غدود ہیں مگر یہ تیس سے زائد ہارمون خارج کرتے ہیں۔ یہ ہارمون پھر انسانی جسم میں کئی فعل انجام دینے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

برگردہ غدود سے خارج ہونے والے ہارمونوں میں یہ اہم ہیں: ٭کورٹیسول (Cortisol) ٭آلڈوسٹیرون (Aldosterone) ٭اینڈروجن(Androgen) ٭ایسٹروجن (Estrogen) ٭ایڈرینلین(Adrenaline) ٭نوراڈرینلین (Noradrenaline)

یہ تمام ہارمون ہمارے مختلف جسمانی فعلات انجام دیتے ہیں۔ مثلاً کورٹیسول کاربوہائڈریٹ، پروٹین اور چکنائی جذب کرنے میں جسم کی مدد کر کے انسان میں توانائی کی سطح درست رکھتا ہے۔ نیز انسان ذہنی یا جسمانی تناؤ (stress) کا شکار ہو تو اس منفی کیفیت سے نکلنے میں معاون بنتا ہے۔

ہمارا نظام ِاستحالہ بھی تندرست رکھتا ہے۔ اینڈروجن اور ایسٹروجن لڑکوں اور لڑکیوں میں بلوغت پیدا کرتے ہیں۔ آلڈوسٹیرون جسم میں نمک کی سطح متوازن رکھنے میں گردوں کا مددگار بنتا ہے۔ انسان جب اچانک کسی صدمے سے دوچار ہو تو ایڈرینلین اسے اس حالت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ اس کام میں نوراڈرینلین ہارمون ایڈرینلین کی مدد کرتا ہے۔ غرض برگردہ غدود ہمارے بدن کے اہم رکن ہیں جو کئی ہارمون بنا کر ہماری صحت عمدہ رکھتے ہیں۔

بیماری جنم لینے کی وجوہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کسی مشکل، پریشانی یا مسئلے سے دوچار ہو تو قدرتاً ذہنی و جسمانی طور پہ تناؤ یا دباؤ میں آ جاتا ہے۔ یہ تناؤ اس لحاظ سے وقتی طور پہ مفید ہے کہ انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مشکلات و مسائل کا مقابلہ کر سکے۔ لیکن انسان مسلسل تناؤ کا شکار رہے تو اس کے برگردہ غدود میں ہارمون خارج کرنے کا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔

یہی خرابی عام طور پہ ’’برگردہ تھکاوٹ‘‘ کو جنم دیتی ہے۔ انسان کو نیند نہیں آتی، صحت گرنے لگتی ہے۔ بال اڑ جاتے ہیں اور جلد کی قدرتی چمک دمک بھی نہیں رہتی۔ اس طبی خلل کی خاص نشانی یہ ہے کہ آرام کرنے کے باوجود تھکاوٹ کا احساس رہتا ہے اور انسان کو اپنا بدن ٹوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

روزمرہ زندگی میں ’’برگردہ تھکاوٹ‘‘ پیدا کرنے والے دیگر صحت دشمن عوامل یہ ہیں: نیند کم لینا، اچھی غذا نہ کھانا اور بہت زیادہ ورزش کرنا۔ اگر انسان درج بالا چاروں خرابیوں میں مبتلا ہو تو اسے برگردہ تھکاوٹ چمٹنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس خلل میں سب سے پہلے برگردہ غدود خراب ہونے کی وجہ سے جسم میں ان کے چھوڑے ہارمونوں کا قدرتی توازن جاتا رہتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ دیگر منفی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

نجات کیسے ملے؟

بر گردہ تھکاوٹ سے بچاؤ اور اس سے نجات کا طریق یہی ہے کہ شدید ذہنی وجسمانی دباؤ ختم کرنے کی کوشش کیجیے۔ سات آٹھ گھنٹے کی نیند لیجیے تاکہ جسم ری چارج ہو سکے۔ اچھی اور متوازن غذا کھائیے۔ ورزش کرتے ہیں تو مناسب وقفہ لیجیے تاکہ بدن اپنی توانائی بحال کر سکے۔ اس پہ زیادہ بوجھ ڈالنا مناسب نہیں۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ روزمرہ زندگی میں متواتر کام نہ کیجیے بلکہ آرام کے لیے بھی وقت نکالیے۔ مسلسل کام کرنا انسان کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے مفید نہیں۔

ماہرین غذائیات کی رو سے بر گردہ تھکاوٹ کا مرض چمٹ جائے تو اپنی غذائی عادات کا خاص خیال رکھیے۔ میٹھی، چربیلی اور تلی ہوئی غذا کم کھائیے، سالم اناج لیں، پتوں والی سبزیاں استعمال کیجیے، مغزیات لیں جن سے عمدہ چکنائی میّسر آتی ہے۔ مالٹوں کا موسم آنے والا ہے۔ انھیں نوش کریں۔ نیز کیفین کم سے کم لیں کہ وہ بر گردہ تھکاوٹ کی علامات میں اضافہ کر دیتی ہے۔

کیفین کی شاید سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ غلط وقت پہ لی جائے تو انسان کو نیند جیسی نعمت سے محروم کر ڈالتی ہے۔ اسے لینے سے انسان چست وچالاک رہتا ہے اور مطلوبہ نیند نہیں لے پاتا۔ یہ عمل اسے رفتہ رفتہ کئی عوارض میں گرفتار کرا دیتا ہے جن میں بر گردہ تھکاوٹ بھی شامل ہے۔

اس طبی خلل میں میٹھی اشیا بھی اعتدال سے استعمال کیجیے۔ یہ اشیا خون میں شکر کی سطح بڑھا دیتی ہیں ، یوں جسمانی مشین کو اسے متوازن کرنے کے لیے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ عمل برگردہ غدود پہ دباؤ ڈال دیتا ہے۔ نمک بھی کم سے کم کھائیے۔ نمکین غذائیں جسم میں بلڈ پریشر پیدا کرتی ہیں جو ایک موذی عمل ہے۔ بر گردہ تھکاوٹ کا علاج موجود ہے مگر انسان غذائی عادات میں تبدیلیاں لا کر گھر بیٹھے اس کا شافی علاج کر سکتا ہے۔ چین میں حکما جڑی بوٹیوں کی مدد سے اس طبی خلل کا علاج کرتے ہیں۔


#تھکاوٹ #پیدا #کرنے #والی #نئی #بیماری #کی #دریافت