0

گھر داری اور ’سلیقہ شعاری‘ معیوب نہیں!

ہمیں یاد ہے بچپن میں نانی اور دادی سے اکثر ہی یہ جملہ سننے کو ملتا تھا کہ ’’تم لڑکیوں کا ’پِتّا نہیں مرا ہوا‘ (یعنی کسی مشکل کام کے لیے مستقل مزاجی نہیں)، تبھی کسی کام میں لگ کر نہیں بیٹھتیں!‘‘ یا پھر یہ کہ ’’فلاں فلاں جو ہے وہ بہت پِتّا مار کر بیٹھتی ہے، جبھی تو اتنے جلدی سارا کام کر لیتی ہے۔‘‘ مگر اس وقت یہ پَتّے کی منطق سمجھ میں نہیں آتی تھی۔

پھر ہم بڑے ہوتے گئے اور سمجھ آتا گیا کہ دل لگا کر کام کرنے کو یا اپنے دھیان کو ادھر ادھر بھٹکانے کے بہ جائے، لگ کر بیٹھ کر کام کرنے کو کہ اب تو یہ کام مکمل کر کے ہی اٹھنا ہے۔ اس کو پِتّا مارنا یا مرنا کہتے ہیں۔ یہ سب ہم کو اس کے باوجود سننا پڑتا تھا، جب کہ ہم کڑھائی، سلائی، کروشیا، اور دوسرے آرٹ ورک جیسے مکرامے بناما، اپنے جہیز کے لیے بیڈ شیٹ بنانا، کھانا بنانا اور روٹی پکانا سیکھنے جیسے کام اور ساتھ ہی ساتھ چھوٹے بہن بھائی کو بھی سنبھالا کرتے تھے۔

اس کے علاوہ ٹی وی پر ڈرامے دیکھتے ہوئے بھی ہاتھ میں کوئی نا کوئی کام دے دیا جاتا تھا، جیسا کہ تکیوں کے کور سینا ، یا کوئی قمیص اُدھیڑنا ، بھائیوں کی شرٹ میں بٹن لگانا وغیرہ وغیرہ۔ اب تو جب ڈرامے ہی ہاتھ میں موبائل لے کر دیکھے جا رہے ہیں تو کچھ اور کام کرنے کا تو سوچا ہی نہیں جاسکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری  پڑھائی تو ساتھ ساتھ تھی ہی اور وہ بھی صرف اپنی نہیں، بلکہ چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی ہوم ورک کروانا اور اگر پڑوس کا کوئی بچہ آ جائے، تو اس کا بھی ہوم ورک کروانا بھی لڑکیوں کی ذمہ داری ہوتی تھی۔

اب اگر ہم آج کے دور کا جائزہ لیں، تو آج کی لڑکیاں صرف اپنی پڑھائی ہی کرلیں، تو یہی بہت بڑا ’محاذ‘ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پھر کمپیوٹر کورس کا نمبر آتا ہے یا موبائل پر ہی کورس جوائن کر لیے جاتے ہیں۔ شاید بہ مشکل 100 میں سے 10 فی صد لڑکیاں سلائی، کڑھائی وغیرہ سیکھتی ہیں۔ ہاں کوکنگ سب کا پسندیدہ مشغلہ ہے اور صرف اس کو ہی کام بھی سمجھا جاتا ہے کہ جس کو سیکھنا ضروری ہے اور اس میں بھی موبائل فون میں موجود بے تحاشا ترکیبوں نے اور کھانا بنانا آسان کر دیا ہے۔

لیکن آج کے دور میں جب بہت سی ایسی چیزیں جو انفرادی ضرورتوں میں شمار ہونے لگی ہیں، ان کے اخراجات بھی اسی طرح ضرورت بن گئے ہیں۔ جیسا کہ ہر گھر میں ہر شخص بچے سے لے کر بڑوں تک سب کا الگ موبائل فون ہے، تو سب کو ہی بیلنس اور انٹر نیٹ کی سہولت بھی درکار ہے۔ تو اس کا ذمہ بھی گھر کے مردوں کی جیب ہی اٹھاتی ہے اور پھر چھوٹے چھوٹے اخراجات مل کر ایک بڑی رقم بن جاتی ہے، جو عام طور پر کسی گنتی میں نہیں شمار ہوتا۔ اس خرچے کو مل بانٹ کر کرنے کے لیے ہمیں  یقیناً کچھ سوچنا چاہیے۔

پہلے خواتین گھر پر اپنے اور بچوں کے اور کچھ مردانہ پاجامے یا شلواریں بھی گھر پر ہی سلائی کرلیا کرتی تھیں، مگر اب بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے یا تو درزی یا درزن سے کپڑے سلوائے جاتے ہیں یا ’ریڈی میڈ‘ کو ترجیح دی جاتی ہے، کیوں کہ اب کسی کو سلائی نہیں آتی اور نہ ہی کوئی لڑکی سلائی سیکھنا چاہتی ہیں اور نہ ہی مائیں یہ سب سکھانا چاہتی ہیں۔

اسی حساب سے درزیوں کے نخرے اور پیسے بھی بڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح کڑھائی یا شادی بیاہ کے کپڑوں پر کوئی کام بنانا ان سب کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ گھنٹوں موبائل پر ڈرامے دیکھ لیں گے، لاحاصل اور تفریح برائے تفریح مواد پر مبنی ویڈیو دیکھ کر ٹائم پاس کر لیں گے یا کھانوں کی ترکیبیں محفوظ کرلیں گے اور اگر کوئی کام سیکھنا بھی ہے، تو وہ بھی کمپیوٹر کورس، ایڈیٹنگ، ویڈیو بنانا یا اور دیگر کورس کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔

مانا کہ یہ کمپیوٹر، موبائل اور انٹرنیٹ کا ہی زمانہ ہے اور اس کی افادیت سے بھی انکار نہیں، مگر حالات جس نہج پر جا رہے ہیں اس میں اگر ہم مردوں کا ہاتھ بٹانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں، تو ضروری نہیں ہے کہ ہم ’آن لائن‘ کاروبار  ہی کریں، یا کہیں کوئی باقاعدہ نوکری کریں۔ ہم اپنے اخراجات کو بھی قابو کر سکتے ہیں، ہم اپنے اور بچوں کے کپڑے خود سی سکتی ہیں۔

ویسے بھی درزیوں کو ڈیزائن بتانے یا کوئی چیز سمجھانے میں گھنٹوں لگاتی ہیں، تو ہم ذرا سی کوشش کر کے خود بھی تو کر سکتی ہیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے، ہمیں یاد ہے ہمیں لڑکپن سے ساڑھی باندھنا اور بنانا آ گئی تھی، مگر اب وہ بھی درزی ہی سی کر دیتے ہیں۔ اسی طرح امی ہمیشہ کپڑے کٹنگ کر کے دے دیتی تھیں اور ہم خود پورے پورے سوٹ سی لیتے تھے اور الحمدللہ اپنی بچیوں کو بھی اتنی سلائی تو سکھا ہی دی ہے کہ سلائی مشین چلانا اور چھوٹے موٹی سلائیاں خود ہی بہت سلیقے سے کر لیتی ہیں۔

ہمارے زمانے میں فاطمہ ثریا بجیا کا ایک ڈراما ’’گھر ایک نگر‘‘ آتا تھا۔ اس میں خاتون خانہ کو بہت سُگھڑ دکھایا گیا تھا، جب کہ ان کی بیٹی اور بہو کو اتنا کچھ خاص کام نہیں آتا تھا۔ شادی کے بعد بیٹی نے شکایت کی کہ آپ نے مجھے کیوں نہیں کچھ سکھایا تو ماں نے جواب دیا کہ ’’جب تم چھوٹی تھیں، تو تمھاری دادی منع کر دیا کرتی تھیں کہ ابھی تو بہت چھوٹی ہے اور ساری زندگی چولھا ہانڈی کرنی ہے۔‘‘ اور جب تم بڑی ہوگئیں، تو تم نے کہا ’’مجھے سب آتا ہے۔۔۔!‘‘ اس پر بیٹی کہتی ہے ’’آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں، لیکن ایک بات ہے کچھ نہ سیکھنے کے باوجود بھی مجھے کافی کام آ جاتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘ تو ماں جو جملہ کہتی ہے وہ بے مثال ہے۔ وہ کہتی ہے:

’’جو بچیاں ماؤں کو بچپن سے کام کرتا ہوا دیکھتی ہیں، ان کو خود بخود ہی سارے کام کرنے یا کام کرنے کا طریقہ آ جاتا ہے۔‘‘

تو آپ سب سے گزارش ہے کہ خود بھی گھر داری کریں اور بچیوں کو بھی گھر داری سکھائیں، یقین جانیے اس سے ’خواتین کے حقوق‘ پر کوئی حرف نہیں آئے گا، اور ویسے بھی اب تو کچھ بھی سیکھنے کے لیے کہیں جانے کی بھی ضرورت نہیں ہے، ہر کام گھر بیٹھے نیٹ کے ذریعے سے سیکھ سکتے ہیں، بس وہی ایک شرط ہے کہ ہماری دادی اور نانی کے بقول ’’پَتّا مرا ہوا ہونا چاہیے!‘‘


#گھر #داری #اور #سلیقہ #شعاری #معیوب #نہیں